RSS

Coverage area….

26 May

Coverage area…..

کچھ دن قبل گاڑی کا پارکنگ  ٹکٹ نکالنے لیے مشین میں سکے ڈالے۔ مگر وہ واپس آ گئے۔ پھر ڈالے پھر واپس آگئے۔ سکے تبدیل کرکے دیکھے مگر پھر بھی وہی جواب۔ میں اسی کوشش میں تھا کہ ایک عرب نوجوان اپنی گاڑی کا پارکنگ ٹکٹ لینے کے لیے وہاں آیا۔ میں نے اسے کہا کہ شاید مشین خراب ہے، سکے لے نہیں رہی۔ اس نے کہا: ایک منٹ، تم نے بسم اللہ پڑھی تھی؟ میں خاموش رہا (یاد نہیں تھا کہ پڑھی تھی کہ نہیں)۔ اس نے با آواز بلند کہا: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اور یہ کہتے ہوئے اپنے سکے مشین میں ڈالے تو مشین نے قبول کرلیے اور ٹکٹ جاری کردیا۔ میں حیران پریشان۔ اس کے جانے کے بعد میں نے بھی بسم اللہ پڑھ کر دوبارہ سکے ڈالے تو مشین نے لے لیے اور مجھے بھی ٹکٹ مل گیا۔

یہ جو ہر کام کرنے سے قبل ہمیں چھوٹی چھوٹی دعائیں سکھائی ہیں ان کا اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بلکہ ہمارا ہی بھلا ہوتا ہے۔ ان کلمات سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟ چلیں میں ہی بتا دیتا ہوں۔ وہ فائدہ یہ ہے کہ:

’’ہم کمپنی کے نیٹ ورک یا کوریج ایریا کے اندر رہتے ہیں‘‘۔

یا اللہ یہ کوریج ایریا کیا مصیبت ہے؟ بھئی یہ سمجھنا تو کوئی مشکل نہیں۔ خاص کر کے ان لوگوں کے لیے جو موبائل استعمال کرتے ہیں۔

آپ کے موبائل اسکرین کے اوپر جو سگنلز کے دانے ہوتے ہیں وہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ کے موبائل کا رابطہ فون کمپنی کے ٹاور کے ساتھ کس کیفیت میں ہے۔ اگر تمام دانے روشن ہوں تو مطلب ہوتا ہے کہ تعلق بڑا اچھا اور مضبوط ہے اور اگر دانے دھندھلا جائیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کے موبائل کا رابطہ ٹاور سے منقطع یا کمزور ہوچکا ہے۔

پس یہ جو اٹھتے بیٹھتے ہمیں مختلف دعائیں سکھائی گئی ہیں یہ دراصل وہ سگنل ہیں جو ہمیں اپنے رب کے ساتھ تعلق کا پتہ دیتے ہیں کہ وہ کتنا مضبوط ہے۔ ہر کام کرنے سے قبل بسم اللہ، تکلیف اور مصیبت کی گھڑی سامنے آنے پر حسبی اللہ، یا اناللہ و انا الیہ رٰجعون، باتھ روم میں جاتے اور نکلتے وقت، کھانا کھانے کے بعد، وضو کے بعد، سواری میں بیٹھتے ہوئے، نیا کپڑا پہنتے ہوئے، چاند دیکھنے پر، نئے شہر میں داخل ہونے پر، محفل سے اٹھتے ہوئے، حتیٰ کہ ہمسفر کے ساتھ خلوت کے موقعہ پر ۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض یہ کہ زندگی کے ہر ہر موقعہ پر انسان کے قلب کا تعلق اپنے پیدا کرنے والے کے ساتھ مضبوط کرنے کے لیے یہ دعائیں سکھائی گئی ہیں۔

میں نے دیکھا ہے شیطان انسان پر حملہ آور ہوتے ہی سب سے پہلا کام یہ کرتا ہے کہ اسے اللہ کے کوریج ایریا سے باہر نکال لیتا ہے۔ اس کے بعد اس پر اپنا بقیہ کام کرتا ہے۔ بلکل اسی طرح جیسے کوئی موبائل چور، موبائل اٹھانے کے بعد سب سے پہلے اس کی سم نکال کر پھینکتا ہے۔

اس کیفیت کو پہچاننے کی سب بڑی نشانی یہی ہے کہ جب انسان اللہ کے کوریج ایریا سے نکل کر شیطان کے نیٹ ورک میں آتا ہے تو اس کی زبان پر بجائے سبحان اللہ، اللہ اکبر، بسم اللہ کے ’’ابے یار‘‘، ’’او ۔۔۔ شِٹ‘‘، ’’ہائے میں مر گیا‘‘، ’’لعنت ہو فلاں پر‘‘  یا کوئی نہ کوئی گالی آجاتی ہے۔ پس یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب وہ اللہ کے بجائے شیطان کے نیٹ ورک میں داخل ہوچکا ہے۔ (تحریر ابو محمد مصعب)

Advertisements
 
Leave a comment

Posted by on May 26, 2016 in Quotes, Stress management, Tips

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: