RSS

سال نو کی آمد پر جشن کا سماں پوری دنیا میں نظر آتا ہے

03 Jan

ہر سال نیا سال آجاتا ہے مگر یہ پتہ نہیں چلتا کہ ہم نے سال گزارا یا سال نے ہمیں گزار دیا۔

مغرب نے پانچ سو برس پہلے اور جاپانیوں، کوریائیوں، چینیوں نے پچھلے سو سال کے دوران یہ راز پا لیا کہ وقت کو طاقت میں کیسے بدلا جا سکتا ہے۔ ہنرمندی و تعلیم سے بے وقعت وقت کو قیمتی کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اسے پیداواری دولت کی شکل کیسے دی جا سکتی ہے۔ وسائل قلیل ہوں یا نہ بھی ہوں تو بھی وقت کو وسائل کا متبادل کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

وقت کو سرمایہ سمجھنے والے ممالک میں باقاعدہ حساب رکھا جاتا ہے کہ قوم نے انفرادی و اجتماعی طور پر کتنے پیداواری گھنٹے برتے یا ضائع کیے اور اس اصراف کو اگلے ہفتے، مہینے یا برس میں کیسے کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

کبھی غور فرمایا کہ انگریز نے برِصغیر کے ہر اہم شہر میں گھنٹہ گھر کیوں بنوائے تھے؟ حالانکہ ہم سب ہی بچپنے سے سنتے آ رہے ہیں کہ اتنا سونا ٹھیک نہیں ہے، وقت کا کھونا ٹھیک نہیں ہے۔ جب پہلی جماعت میں داخل ہوتے ہیں تو کلاس روم کی دیواروں پر موٹا موٹا خوشخط لکھا پاتے ہیں، گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں، وقت کی قدر کرو، وقت بڑی دولت ہے، آج کا کام کل پر نہ ٹالو وغیرہ وغیرہ۔

ہو سکتا ہے یہود و ہنود مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کے ازلی دشمن ہوں مگر کیا یہ بھی اغیار کی سازش ہے کہ ہم اپنے ذمے لگا کام بھی وقت پر مکمل نہ کر پائیں، کسی بھی شادی غمی میں وقت پر پہنچنے کو بے وقوفی سمجھیں، کسی بھی بڑے یا چھوٹے منصوبے کی ڈیڈ لائن ہمارے لیے مقدس نہ ہو، امپورٹ ایکسپورٹ کا کوئی بھی آرڈر یہ جانے بغیر لیتے چلے جائیں کہ ظاہر و غائب اسباب کے سبب یہ بر وقت مکمل نہ ہو سکا تو بے عزتی ہوگی۔ وقت کی قیمت کے بارے میں دنیا بھر میں اتفاق رائے پایا جاتا

ہم تو کسی کو فوری امداد بھی وقت پر نہیں دے پاتے بھلے سائل خود ہی چل کے کیوں نہ آ جائے۔ یہ بھی ہماری سوچ کے ایجنڈے کا حصہ نہیں کہ زیادہ سے زیادہ سرگرمی اور کاروبار دن کی روشنی میں کرو تاکہ توانائی اور وسائل اگلے روز کام آ سکیں۔

آپ کسی سے بھی وقت مانگ کے دیکھ لیں اکثر یہی سننے کو ملے گا شام کے بعد جب چاہے مل لو، صبح آجاؤ۔ بس والے سے پوچھیں کے کتنے بجے چلے گی؟ جواب ملے گا ایک آدھ گھنٹے میں؟ وزیر سے پوچھیں یہ منصوبہ کس تاریخ تک مکمل ہوگا وہ کہے گا سال چھ مہینے میں۔ اگر اصرار کریں کہ اندازاً کس تاریخ تک؟ تو وہ الٹا آپ سے پوچھ سکتا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہو یا فرانس میں؟

قوم کے غم میں مرا جانے والا ہر رہنما کیسی آسانی سے کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے کہ ہمارے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ راتوں رات سب ٹھیک ہو جائے۔ مگر کتنے لوگ جانتے ہیں کہ وقت ہی دراصل الہ دین کا چراغ ہے اور یہ چراغ سب کے پاس ہے لیکن شعور کم کم ہے۔ بہت سے لوگوں کا وقت چائے پر خوش گپیوں میں گذرتا ہے

چونکہ وقت ہی سیدھا نہیں ہو پا رہا اس لیے کچھ بھی سیدھا نہیں ہو پا رہا۔ حیرت ہے جس ملک کی آدھی آبادی خطِ غربت سے نیچے ہو، جہاں وسائل اپنے استعمال کے انتظار میں سوکھ رہے ہوں، جہاں صلاحیتوں کی کمی نہ ہو، وہاں اکثریت کے پاس فرصت ہی فرصت ہے۔

یہ کوئی المیہ ہی نہیں کہ صبح سے رات تک ہر قصبے اور بستی کے چائے خانے اپنا کام کسی اور پر ڈالنے والے ویہلے لوگوں سے کچھا کھچ بھرے رہتے ہیں۔ دن باتوں، تبصروں، ٹی وی بینی اور غیبتوں میں گذر جاتا ہے اور رات کی قبر سے اٹھنے والا ایک نیا دن پھر سے سب کو دبوچ لیتا ہے۔

دن دبے پاؤں مہینوں اور برسوں اور عشروں میں بدلتے جاتے ہیں اور خواب میں ترقی کی عادی باتونی اکثریت سے قبرستان بھرتے جاتے ہیں۔

بے دلی کیا یونہی دن گذر جائیں گے

صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے ( جون ایلیا )

Advertisements
 
Leave a comment

Posted by on January 3, 2016 in Stress management, Tips

 

Tags:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: